ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دھولاکنواں اجتماعی عصمت دری کیس:ہائی کورٹ نے تمام مجرموں کی سزائے عمرقید برقرار رکھی

دھولاکنواں اجتماعی عصمت دری کیس:ہائی کورٹ نے تمام مجرموں کی سزائے عمرقید برقرار رکھی

Sun, 04 Feb 2018 13:39:09    S.O. News Service

نئی دہلی، 03فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی ہائی کورٹ نے سال 2010کے دھولاکنواں گینگ ریپ اسکینڈل کے تمام ملزمان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔اکتوبر 2014 میں دہلی کی دوارکا عدالت نے مقدمہ میں پانچ مجرموں کو قید کی سزا سنائی،نچلی عدالت نے ان پر 50-50ہزار روپے کا جرمانہ بھی لگایاگیاتھا۔دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس وپن سانگھی اور جسٹس پی ایس تیجی کی بنچ نے پانچوں قصورواروں کی اپیل کو مسترد کر دیا،ساتھ ہی کہا کہ معاملے میں نہ صرف متاثرہ کی گواہی کافی تھی، بلکہ اس کے ساتھ رہے دوست اور اس کے آجر نے بھی اس کے بیان کی تصدیق کی۔وہیں معاملے میں تمام مجرمین اپنی اپیل کی حمایت میں کوئی ٹھوس بنیاد نہیں پیش کر پائے۔بنچ نے کہا کہ استغاثہ نے ثابت کیا تھا کہ 23-24نومبر 2010کی درمیانی رات کو پانچ افراد نے جنوبی دہلی کے موتی باغ علاقے میں شرماآ ٹوموبائلس کے پاس سے متاثرہ کو اغوا کیا تھا اور اسے ایک پک اپ گاڑی میں لے جاکر چلتی گاڑی میں ان کے ساتھ عصمت دری کی۔معاملے میں قصوروار عثمان عرف کالے، شمشاد عرف کھٹکن، شاہد عرف چھوٹا بلی، اقبال عرف بڑابلی اورقمرالدین عرف موبائل نے دوارکا کورٹ سے ملی عمر قید کی سزا کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔عدالت نے تمام مجرموں کی تاعمر کی سزا کو کم کرنے کی اپیل بھی مسترد کردی ہے،یہ سب مجرمین ہریانہ کے میوات کے رہائشی ہیں۔انہوں نے سال 2010میں دھولاکنواں میں میزورم کی رہنے والی 30سالہ لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کیا تھا،متاثرہ ایک بی پی او کمپنی میں کام کرتی ہے،اس واقعے کے دوران متاثرہ کا دوست بھی اس کے ساتھ موجود تھا۔


Share: